معروف پاکستانی صحافی مطیع اللہ جان اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس سے ’لاپتہ‘ ہوگئے ہیں، جس کی تصدیق ان کے خاندان نے کردی ہے۔
ان کے بھائی شاہد عباسی نے اسلام آباد کے ایک صحافی کو بتایا کہ مطیع اللہ جان کو کالے لباس میں ملبوس لوگ دو گاڑیوں میں اٹھانے آئے تھے۔
مطیع اللہ کے دوستوں کے مطابق وہ اپنی اہلیہ کو سیکٹر جی سکس میں واقع ان کے اسکول سے لینے گئے تھے جہاں وہ ایک ٹیچر ہیں۔ ان کی اہلیہ کے مطابق یہ واقعہ صبح 11:10 پر پیش آیا۔
اسکول کے باہر لگے کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کالے لباس میں ملبوس کچھ لوگ اسکول کے باہر کھڑی ایک گاڑی سے کسی کو کھینچ کر نکال رہے ہیں۔
ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ مطیع اللہ جان نے انہیں صبح 10 بجے اسکول چھوڑا اور جب دوپہر کو 1 بجے انہوں نے اپنے شوہر کو کال کی تو ان کا ایک نمبر بند تھا جبکہ دوسرا فون وہ اٹھا نہیں رہے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اس وقت اسکول کے ایک چوکیدار نے بتایا کہ ان کی ایک گاڑی اسکول کے باہر کھڑی ہے۔
ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ جب وہ گاڑی دیکھنے باہر پہنچی تو دیکھا کہ کار کی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھلا تھا اور گاڑی میں ایک موبائل فون بھی پڑا تھا۔
پولیس اسکول پہنچ چکی ہے اور ان کی جانب سے تحقیقات کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔
مطیع اللہ جان اپنے خیالات کی وجہ سے اکثر سوشل میڈیا پر حملوں کی زد میں رہتے ہیں اور پچھلے ہی ہفتے پاکستان کی سپریم کورٹ نے ان کے خلاف توہین عدالت کیس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
عدالت نے انہیں ان کی ایک ٹوئٹ پر نوٹس لیتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کئے تھے اور اس کیس کی پہلی سماعت 22 جولائی بروز بدھ کو ہوگی۔





Post A Comment:
0 comments: