سپریم کورٹ میں پائلٹس کے جعلی لائسنس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں قومی ایئر لائن کے سی ای او ارشد ملک نے بتایا کہ پی آئی اے سے 50 فيصد عملے کو نکاليں گے، گولڈن ہینڈ شیک اسکیم لارہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے پائلٹس کے جعلی لائسنس جاری کرنے میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا، پی آئی اے کو روز ویلٹ ہوٹل سمیت تمام اثاثے فروخت کرنے سے بھی روک دیا، نئی بھرتیاں بھی نہیں ہو سکیں گی۔
پائلٹس کے جعلی لائسنسز پر دستخط کرنے والے جیل جائیں گے، سپریم کورٹ نے اسکینڈل میں ملوث سول ایوی ایشن حکام کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرانے کا حکم دے دیا۔
عدالت عظمیٰ نے متعلقہ ادارے کو 2 ہفتے میں ملوث افسران کیخلاف کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی سخت سرزنش کی ہے۔
سپریم کورٹ نے سول ایوی ایشن حکام کیخلاف کارروائی نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ کہا ڈی جی صاحب آپ نے چٹھی بازی کے علاوہ کچھ نہیں کیا، آپ عہدے کے اہل نہیں، دنیا بھر میں پاکستان کا جعلی لائسنس اسکینڈل مشہور ہوا، جس سے ہم بدنامی میں زمین کی تہہ تک پہنچ گئے ہیں۔
عدالت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دنیا کا کرپٹ ترین ملک کہا جاتا ہے، ملک میں تمام برائیاں ایئرپورٹس کے ذریعے ہی آتی ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ 2010ء سے 2018ء تک آڈٹ میں 262 پائلٹس جعلی لائسنس نکلے جن کیخلاف کارروائی جاری ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کراچی حادثے کے پائلٹ کا لائسنس 1990ء میں جاری ہوا تھا، 2010 سے پہلے جاری لائسنسوں کا کیا کریں گے؟۔
ایم ڈی پی آئی اے نے بتایا کہ ادارے کے 50 فیصد عملے کو گولڈن شیک ہینڈ کے ذریعے فارغ کردیا جائے گا۔ عدالت نے بھی دو ٹوک کہہ دیا کہ پی آئی اے میں مزید بھرتیاں کرنے دیں گے نہ ہی روز ویلٹ ہوٹل سمیت کوئی اثاثہ اجازت کے بغیر فروخت کیا جاسکے گا۔
سپریم کورٹ نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کو کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے دو ہفتے میں جواب مانگ لیا۔
#AhmedShameel #AhmedShameelUrduNews #AhmedShameelNews





Post A Comment:
0 comments: